aashiq-e-dilsoz

عاشق دلسوز

دل جلا عاشق، ہمدرد عاشق

Meaning: the burning-hearted lover

عاشق دلسوز (aashiq-e-dilsoz) کا مطلب ہے: دل جلا عاشق، ہمدرد عاشق۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

لیتے ہی دل جو عاشق دلسوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے

lete hi dil jo aashiq-e-dilsoz kaa chaletum aag lene aaye the kya aaye kya chale

تم عاشق دلسوز کا دل لیتے ہی چل دیے؛ کیا تم آگ لینے آئے تھے؟ پرانے زمانے میں لوگ پڑوس سے آگ لینے جاتے اور بجھنے سے پہلے جلدی لوٹ آتے تھے۔ عاشق کا دل جل رہا ہے، اس لیے محبوب سچ مچ آگ ہی لینے آیا اور لے کر چلا گیا۔ “کیا آئے کیا چلے” کا مطلب ہے آتے ہی چلے گئے۔

شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ع‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت