لیتے ہی دل جو عاشق دلسوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے
lete hi dil jo aashiq-e-dilsoz kaa chaletum aag lene aaye the kya aaye kya chale
تم عاشق دلسوز کا دل لیتے ہی چل دیے؛ کیا تم آگ لینے آئے تھے؟ پرانے زمانے میں لوگ پڑوس سے آگ لینے جاتے اور بجھنے سے پہلے جلدی لوٹ آتے تھے۔ عاشق کا دل جل رہا ہے، اس لیے محبوب سچ مچ آگ ہی لینے آیا اور لے کر چلا گیا۔ “کیا آئے کیا چلے” کا مطلب ہے آتے ہی چلے گئے۔
شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 119 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ