abas

عبث

بے کار؛ بے کار، فضول

Meaning: in vain; for nothing

عبث (abas) کا مطلب ہے: بے کار، یا بے کار، فضول۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

بھول جا خوش رہ عبث وہ سابقے مت یاد کردرد یہ مذکور کیا ہے آشنا تھا یا نہ تھا

bhool ja khush rah abas vo saabiqe mat yaad karDard ye mazkoor kya hai aashna tha ya na tha

بھول جاؤ اور خوش رہو، پرانے تعلقات کو یاد کرنا بے کار ہے۔ اے درد، یہ بات ہی کیا کہ کوئی دوست تھا یا نہیں تھا؟ ماضی کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

naahaq ham majbooron par ye tohmat hai mukhtaari kichaahte hain so aap karen hain ham ko abas badnaam kiya

ہم بے بس لوگوں پر یہ الزام بلا وجہ ہے کہ ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ جو تم چاہتے ہو وہ خود کرتے ہو اور ہمیں بے کار بدنام کیا جاتا ہے۔ اسے عاشق کا محبوب سے شکوہ بھی سمجھا جا سکتا ہے اور انسان کا تقدیر سے بھی۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ع‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت