ummeed

امید

توقع؛ توقع؛ آس، سہارا

Meaning: hope, expectation; expectation; hope

امید (ummeed) کا مطلب ہے: توقع، یا توقع، یا آس، سہارا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے

hum ko un se wafa ki hai ummeedjo nahin jaante wafa kya hai

ہمیں ان سے وفا کی امید ہے جو یہ بھی نہیں جانتے کہ وفا کیا ہوتی ہے۔ عاشق جانتا ہے کہ اس کی امید بے کار ہے، پھر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مکھی نے کہا خیر یہ سب ٹھیک ہے لیکنمیں آپ کے گھر آؤں یہ امید نہ رکھنا

makkhi ne kahaa khair ye sab theek hai lekinmain aap ke ghar aaoon ye ummeed na rakhnaa

مکھی نے کہا: خیر، یہ سب ٹھیک ہے لیکن یہ امید نہ رکھنا کہ میں آپ کے گھر آؤں گی۔ وہ اب بھی انکار کرتی ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 13 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو

raaton ko chalne waale reh jaaen thak ke jis damummeed un ki mera toota hua diya ho

رات کو سفر کرنے والے جب تھک کر رک جائیں تو میرا ٹوٹا پھوٹا چراغ ان کی امید بنے۔ یعنی تنہائی میں بھی شاعر دوسروں کے کام آنا چاہتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ا‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت