رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
rag-e-sang se tapakta woh lahoo ki phir na thamtajise gham samajh rahe ho ye agar sharaar hota
جسے تم معمولی غم سمجھ رہے ہو اگر یہ چنگاری ہوتا تو پتھر کی رگ سے بھی ایسا خون بہتا جو کبھی نہ رکتا۔ پتھر سے چنگاری نکلتی ہے، مگر یہ غم اس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ یعنی شاعر کا غم عام اندازے سے بہت بڑا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ