بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیابات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
bijli ik kaund gai aankhon ke aage to kyabaat karte ki main lab-tishna-e-taqreer bhi tha
آنکھوں کے سامنے ایک بجلی سی چمک گئی تو کیا ہوا؟ کچھ بات تو کرتے، میں تمہاری باتوں کا بھی پیاسا تھا۔ محبوب کی ایک جھلک بجلی جیسی تھی، مگر عاشق کو دیدار کے ساتھ گفتگو کی بھی تمنا تھی۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ