رنج کیا وصل عدو کا جو تعلق ہی نہیںمجھ کو واللہ ہنساتا ہے رلانا تیرا
ranj kya wasl-e-adoo kaa jo taalluq hi nahinmujh ko wallaah hansaataa hai rulaanaa tera
محبوب رقیب سے مل کر شاعر کو جلانا چاہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں تو تمہارے رقیب سے ملنے کا مجھے کیا رنج؟ خدا کی قسم، تمہارا مجھے رلانے کی کوشش کرنا الٹا مجھے ہنساتا ہے۔ یہ بے پروائی کا دعویٰ خود بتاتا ہے کہ دل میں ابھی بھی محبت باقی ہے۔
داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 14 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ