کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
kitne shireen hain tere lab, ki raqeebgaaliyaan kha ke be-maza na hua
تمہارے ہونٹ کتنے میٹھے ہیں کہ رقیب گالیاں سن کر بھی بد مزہ نہ ہوا۔ ایسے میٹھے لبوں سے گالی بھی میٹھی لگتی ہے۔ یہ محبوب کی دل کشی اور رقیب کی ڈھٹائی پر ایک شوخ شعر ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ