qaatil

قاتل

مارنے والا (یہاں محبوب)؛ قتل کرنے والا؛ یہاں محبوب

Meaning: killer (here, the beloved); the killer; here the beloved

قاتل (qaatil) کا مطلب ہے: مارنے والا (یہاں محبوب)، یا قتل کرنے والا؛ یہاں محبوب۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

شرع و آئین پر مدار سہیایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

shar' o aaeen par madaar sahiaise qaatil kaa kyaa kare koi

مانا کہ ہر فیصلہ شریعت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، مگر ایسے قاتل کا کوئی کیا کرے؟ قاتل سے مراد محبوب ہے جس کی نظر عاشق کو گھائل کرتی ہے، اور کوئی عدالت اسے سزا نہیں دے سکتی۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 201 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اس کی گردن پروہ خوں جو چشمِ تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے

dare kyun mera qaatil? kya rahega us ki gardan parwoh khoon jo chashm-e-tar se umr bhar yun dam-ba-dam nikle

میرا قاتل کیوں ڈرے؟ جو خون عمر بھر آنسو بن کر آنکھوں سے نکلتا رہا، کیا وہ اس کے ذمے لکھا جائے گا؟ عاشق کا خون تو پہلے ہی آنسو بن کر بہہ چکا، محبوب پر کوئی الزام نہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 205 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ق‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت