میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
main ne maana ki kuchh nahin Ghalibmuft haath aae to bura kya hai
مانا کہ غالب کچھ بھی نہیں، مگر مفت ہاتھ آئے تو اس میں کیا برائی ہے؟ شاعر مسکراتے ہوئے خود کو محبوب کے لیے مفت کا سودا بنا کر پیش کرتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 150 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
bosa dete nahin aur dil pe hai har lahza nigaahjee mein kehte hain ki muft aae to maal achchha hai
محبوب بوسہ تو نہیں دیتا مگر ہر لمحہ ہمارے دل پر نظر رکھتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کہ مفت ملے تو مال اچھا ہے۔ یہ اس محبوب کی شوخ تصویر ہے جو سب کچھ لینا چاہتا ہے اور دیتا کچھ نہیں۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 169 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ