پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
paani ko chhoo rahi ho jhuk jhuk ke gul ki tahnijaise haseen koi aaeena dekhta ho
پھول کی شاخ بار بار جھک کر پانی کو چھو رہی ہو، جیسے کوئی حسین آئینہ دیکھ رہا ہو۔ ندی آئینہ بن جاتی ہے اور شاخ اس میں اپنا عکس دیکھتی ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ