dost-daar-e-dushman

دوست دارِ دشمن

دشمن کا دوست

Meaning: a friend of the enemy

دوست دارِ دشمن (dost-daar-e-dushman) کا مطلب ہے: دشمن کا دوست۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

dost-daar-e-dushman hai etimaad-e-dil maaloomaah be-asar dekhi, naala naa-rasaa paaya

دل تو دشمن کا دوست نکلا، اس پر بھروسا کیسا۔ میری آہ بے اثر رہی اور فریاد محبوب تک نہ پہنچی۔ یعنی عشق میں اپنا دل اور اپنی آواز بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’د‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت