بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفلجو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
boo-e-gul, naala-e-dil, dood-e-charaagh-e-mehfiljo teri bazm se nikla so pareshaan nikla
پھول کی خوشبو ہو، دل کی فریاد ہو یا محفل کے چراغ کا دھواں، جو بھی تمہاری محفل سے نکلا پریشان ہو کر نکلا۔ پریشان کے دو معنی ہیں، بکھرا ہوا اور بے چین۔ خوشبو اور دھواں بکھر جاتے ہیں اور تمہاری محفل سے جانے والا عاشق بے چین رہتا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 5 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ