اکبر الہ آبادی کی قطعہ (منتخب اشعار: ۳)

نوکروں پر جو گزرتی ہے مجھے معلوم ہے

Naukaron Par Jo Guzarti Hai Mujhe Maaloom Hai · Qita by Akbar Allahabadi

ردیف “رہنے دیجیے” کے اشعار، صفحہ ۲۵۵۔ یہاں اس کے چار میں سے پہلے تین اشعار ہیں۔

Lines on the refrain “rehne dijiye” (let it be), page 255. We carry the first three of its four couplets.

یہ قطعہ اکبر الہ آبادی کی ہے اور یہاں کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931) کے صفحہ ۲۵۵ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This qita is by Akbar Allahabadi, from Kulliyat-e-Akbar Allahabadi, Part 1 (known as Lisan-ul-Asr) (1931), p. 255.

نوکروں پر جو گزرتی ہے مجھے معلوم ہےبس کرم کیجے مجھے بیکار رہنے دیجیے

naukaron par jo guzarti hai mujhe maaloom haibas karam keeje mujhe bekaar rahne deejiye

  • نوکروں naukaronملازموں (employees, people in service)
  • کرم karamمہربانی (kindness, a favour)
  • بیکار bekaarبے روزگار (without a job, idle)

آسان تشریح

کوئی شاعر کو نوکری دلانا چاہتا ہے۔ وہ ادب سے انکار کرتا ہے کہ نوکروں پر جو گزرتی ہے وہ مجھے معلوم ہے، بس مہربانی کیجیے اور مجھے بیکار ہی رہنے دیجیے۔ اکبر انگریزی دور میں نوکری کی دوڑ پر ہنستے ہیں جہاں عہدہ اکثر ذلت کے ساتھ ملتا تھا۔

In plain English

Someone is offering the poet a government job. He politely refuses: I know what people in service go through, so please be kind and let me stay unemployed. Akbar laughs at the scramble for jobs under British rule, where a post often meant humiliation.

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

راہ میں لیسنس ہی کافی ہے عزت کے لیےبس یہی لے لیجیے تلوار رہنے دیجیے

raah mein license hi kaafi hai izzat ke liyebas yahi le leejiye talwaar rahne deejiye

  • لیسنس licenseاجازت نامہ (انگریزی لفظ) (licence (English word), here a permit for arms)
  • عزت izzatآبرو، وقار (honour, respect)
  • تلوار talwaarشمشیر (sword)

آسان تشریح

انگریزی دور میں ہتھیار رکھنے کے لیے سرکاری لائسنس ضروری تھا۔ اکبر مذاق کرتے ہیں کہ راستے میں عزت کے لیے لائسنس ہی کافی ہے، بس یہی لے لیجیے اور تلوار رہنے دیجیے۔ گویا عزت اب بہادری کے بجائے سرکاری کاغذ کا معاملہ بن گئی ہے۔

In plain English

In colonial India carrying weapons needed an official licence. Akbar jokes that out on the road the paper licence alone is enough to earn respect, so take the licence and forget the sword. Honour, he suggests, has become a matter of government paperwork rather than courage.

نوٹ: “لیسنس” is printed in this spelling for the English word “licence”.

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ڈاکٹر صاحب سے ملنا آپ کا اچھا نہیںبیٹھے گھر میں مجھے بیمار رہنے دیجیے

doctor saahab se milnaa aap kaa achchhaa nahinbaithe ghar mein mujhe beemaar rahne deejiye

  • ڈاکٹر doctorمعالج (انگریزی لفظ) (doctor (English word))
  • بیمار beemaarمریض (ill, sick)

آسان تشریح

شاعر کہتا ہے کہ آپ کا ڈاکٹر صاحب سے ملنا اچھا نہیں، مجھے گھر بیٹھے بیمار ہی رہنے دیجیے۔ لطف اس بات میں ہے کہ وہ نئے، مہنگے اور اجنبی علاج کے مقابلے میں بیماری کو ترجیح دیتا ہے، اور بس یہ چاہتا ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

In plain English

Your going to see the doctor is not a good idea, the poet says; let me sit at home and stay ill instead. The humour is in preferring illness to the expensive, unfamiliar new medicine, and in the poet’s stubborn wish to be left alone.

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول · Kulliyat-e-Akbar Allahabadi, Part 1 (known as Lisan-ul-Asr) · Nami Press (title page: “نامی پریس لکھنؤ میں چھپا”), at the order of Syed Ishrat Husain, Deputy Collector، Lucknow 1931
صفحات
255 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

اکبر الہ آبادی کا مزید کلام