اکبر الہ آبادی کی قطعہ

دن تو جنات کی خدمت میں بسر ہوتا ہے

Din To Jinnaat Ki Khidmat Mein Basar Hota Hai · Qita by Akbar Allahabadi

دو اشعار کا قطعہ، صفحہ ۲۵۵۔

A two-couplet qita, page 255.

یہ قطعہ اکبر الہ آبادی کی ہے اور یہاں کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931) کے صفحہ ۲۵۵ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This qita is by Akbar Allahabadi, from Kulliyat-e-Akbar Allahabadi, Part 1 (known as Lisan-ul-Asr) (1931), p. 255.

دن تو جنات کی خدمت میں بسر ہوتا ہےرات پریوں کی خوشامد میں گزر جاتی ہے

din to jinnaat ki khidmat mein basar hota hairaat pariyon ki khushaamad mein guzar jaati hai

  • جنات jinnaatجن (جمع) (jinns, powerful spirits)
  • بسر basarگزرنا (spent, passed)
  • پریوں pariyonپریاں؛ حسین عورتیں (fairies; beautiful women)
  • خوشامد khushaamadچاپلوسی (flattery)

آسان تشریح

دن جنوں کی خدمت میں گزرتا ہے اور رات پریوں کی خوشامد میں۔ اکبر قصے کہانیوں کے جن اور پری کو ان طاقتور آقاؤں کے لیے استعمال کرتے ہیں جنھیں دن میں خوش کرنا پڑتا ہے، اور اس فیشن زدہ محفل کے لیے جسے رات کو خوش رکھنا پڑتا ہے۔ دونوں صورتوں میں آدمی کا سارا وقت کسی اور کا ہے۔

In plain English

The day is spent serving “jinns” and the night flattering “fairies”. Akbar uses the fairy-tale pair of jinns and fairies for the powerful masters a man must please by day and the fashionable company he must please by night. Either way, the whole of his time belongs to someone else.

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

سلف ریسپکٹ کا وقت آئے کہاں سے اکبردیکھ تو غور سے دنیا کو کدھر جاتی ہے

self respect kaa waqt aae kahaan se akbardekh to ghaur se duniyaa ko kidhar jaati hai

  • سلف ریسپکٹ self respectعزتِ نفس (انگریزی لفظ) (self-respect (English words))
  • غور سے ghaur seدھیان سے (carefully, attentively)

آسان تشریح

اکبر پوچھتے ہیں کہ اتنی خوشامد میں سلف ریسپکٹ، یعنی عزتِ نفس، کا وقت کہاں سے آئے؟ ذرا غور سے دیکھو کہ دنیا کدھر جا رہی ہے۔ انگریزی لفظ “سلف ریسپکٹ” استعمال کرنے سے طنز اور تیز ہو جاتا ہے کہ یہ خیال بھی اب ادھار کا ہے اور روزمرہ زندگی میں اس کی جگہ نہیں رہی۔

In plain English

With all that flattery, Akbar asks, where would one find time for self-respect? Look carefully at the direction the world is going. Using the English words “self respect” makes the point sharper: even the idea is now borrowed, and there is no room for it in daily life.

نوٹ: The scan prints “سلف رسپکٹ”; we give the more common spelling with ی.

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 255 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول · Kulliyat-e-Akbar Allahabadi, Part 1 (known as Lisan-ul-Asr) · Nami Press (title page: “نامی پریس لکھنؤ میں چھپا”), at the order of Syed Ishrat Husain, Deputy Collector، Lucknow 1931
صفحات
255 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

اکبر الہ آبادی کا مزید کلام