اکبر الہ آبادی کی فرد

دیکھوں عروس دہر کو کیوں آنکھ کھول کے

Dekhoon Aroos-e-dahr Ko Kyoon Aankh Khol Ke · Single couplet by Akbar Allahabadi

ایک فرد، صفحہ ۲۵۷۔

A single couplet (fard), page 257.

یہ فرد اکبر الہ آبادی کی ہے اور یہاں کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931) کے صفحہ ۲۵۷ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This single couplet is by Akbar Allahabadi, from Kulliyat-e-Akbar Allahabadi, Part 1 (known as Lisan-ul-Asr) (1931), p. 257.

دیکھوں عروس دہر کو کیوں آنکھ کھول کےبہتر یہی ہے کام نکالوں ٹٹول کے

dekhoon aroos-e-dahr ko kyoon aankh khol kebehtar yahi hai kaam nikaaloon tatol ke

  • عروس دہر aroos-e-dahrدنیا کی دلہن، یعنی دنیا (the bride of the world, i.e. the world itself)
  • ٹٹول کے tatol keہاتھ سے محسوس کر کے، اندھیرے میں ڈھونڈ کر (by groping, feeling one’s way)

آسان تشریح

دنیا کو دلہن کہا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں دنیا کی دلہن کو آنکھ کھول کر کیوں دیکھوں، بہتر یہی ہے کہ ٹٹول کر اپنا کام نکال لوں۔ دنیا کو غور سے دیکھنے سے اس کی بدصورتی ہی نظر آتی ہے، اس لیے اکبر طنزاً اسے بغیر دیکھے برتنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

In plain English

The world is pictured as a bride. Why should I look at her with open eyes, the poet asks; better to get my work done by feeling my way. Looking too closely at the world only shows its ugliness, so Akbar wryly chooses to get by without examining it.

اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 257 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول · Kulliyat-e-Akbar Allahabadi, Part 1 (known as Lisan-ul-Asr) · Nami Press (title page: “نامی پریس لکھنؤ میں چھپا”), at the order of Syed Ishrat Husain, Deputy Collector، Lucknow 1931
صفحات
257 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

اکبر الہ آبادی کا مزید کلام