ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہابلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
tahni pe kisi shajar ki tanhabulbul tha koi udaas baitha
منظر یوں شروع ہوتا ہے کہ کسی درخت کی شاخ پر ایک بلبل اکیلا اداس بیٹھا تھا۔ پرانی اردو کی طرح یہاں بلبل کو مذکر باندھا گیا ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
paani ko chhoo rahi ho jhuk jhuk ke gul ki tahnijaise haseen koi aaeena dekhta ho
پھول کی شاخ بار بار جھک کر پانی کو چھو رہی ہو، جیسے کوئی حسین آئینہ دیکھ رہا ہو۔ ندی آئینہ بن جاتی ہے اور شاخ اس میں اپنا عکس دیکھتی ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 36 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ