دیکھوں عروس دہر کو کیوں آنکھ کھول کےبہتر یہی ہے کام نکالوں ٹٹول کے
dekhoon aroos-e-dahr ko kyoon aankh khol kebehtar yahi hai kaam nikaaloon tatol ke
دنیا کو دلہن کہا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں دنیا کی دلہن کو آنکھ کھول کر کیوں دیکھوں، بہتر یہی ہے کہ ٹٹول کر اپنا کام نکال لوں۔ دنیا کو غور سے دیکھنے سے اس کی بدصورتی ہی نظر آتی ہے، اس لیے اکبر طنزاً اسے بغیر دیکھے برتنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اکبر الہ آبادی · کلیاتِ اکبر الہ آبادی، حصہ اول (1931)، ص 257 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ