دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
dil se jo baat nikalti hai asar rakhti haipar nahin taaqat-e-parwaaz magar rakhti hai
جو بات دل سے نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے؛ اس کے پر نہیں ہوتے مگر وہ اڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اسی لیے شاعر کا خلوص سے کیا گیا شکوہ آسمان تک پہنچ گیا۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 220 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ