رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
rahi na taaqat-e-guftaar aur agar ho bhito kis ummeed pe kahiye ki aarzoo kya hai
اب بولنے کی طاقت نہیں رہی، اور اگر ہو بھی تو کس امید پر بتائیں کہ ہماری آرزو کیا ہے؟ کمزوری اور ناامیدی نے مل کر عاشق کو خاموش کر دیا ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ