rashk

رشک

حسد، جلن؛ ایسی خوبی جس پر دوسرے حسد کریں

Meaning: jealousy; the envy of

رشک (rashk) کا مطلب ہے: حسد، جلن، یا ایسی خوبی جس پر دوسرے حسد کریں۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے

ye rashk hai ki woh hota hai ham-sukhan tum sewagarna khauf-e-bad-aamozi-e-adoo kya hai

دکھ صرف اس بات کا ہے کہ رقیب تم سے باتیں کرتا ہے، ورنہ اس کے بہکانے کا کیا ڈر؟ عاشق رقیب کی سازش سے نہیں ڈرتا، بس اسے محبوب کے قریب دیکھ کر جلتا ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 163 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

tha vo to rashk-e-hoor-e-bihishti hameen mein Mirsamjhe na ham to fahm ka apni qusoor tha

میر کہتے ہیں کہ وہ حسین جس پر جنت کی حوریں بھی رشک کریں، ہمارے ہی درمیان تھا۔ ہم اسے پہچان نہ سکے تو یہ ہماری سمجھ کا قصور تھا۔ اکثر جو چیز پاس ہوتی ہے ہم اسے دور ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ر‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت