musaahib

مصاحب

ساتھی، درباری

Meaning: a companion at court

مصاحب (musaahib) کا مطلب ہے: ساتھی، درباری۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۱ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

hua hai sheh ka musaahib phire hai itraatawagarna shehr mein Ghalib ki aabroo kya hai

غالب بادشاہ کا درباری بن گیا ہے تو اکڑتا پھرتا ہے، ورنہ شہر میں اس کی عزت ہی کیا ہے؟ مقطع میں شاعر خود پر طنز کرتا ہے، اور شاید ان لوگوں پر بھی جو ہنر سے زیادہ دربار کے تعلق کو اہمیت دیتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’م‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت