شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوںدل ہوا ہے چراغ مفلس کا
shaam se kuchh bujha sa rahta hoondil hua hai charaagh muflis ka
شام ہوتے ہی میں کچھ بجھا بجھا سا رہتا ہوں، میرا دل غریب کا چراغ بن گیا ہے۔ غریب کے چراغ میں تیل کم ہوتا ہے، وہ مدھم جلتا ہے اور جلدی بجھ جاتا ہے۔ اداس دل کا حال بھی ایسا ہی ہے۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ