جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روزآپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں
jab woh jamaal-e-dil-faroz, soorat-e-mehr-e-neem-rozaap hi ho nazzaara-soz, parde mein munh chhupaae kyun
جب وہ دل کو روشن کرنے والا حسن دوپہر کے سورج جیسا ہے اور خود ہی نظر کو جلا دیتا ہے، تو پردے میں منہ کیوں چھپائے؟ اس کی چمک خود ہی پردہ ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 107 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ