ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
hue mar ke hum jo ruswa hue kyun na gharq-e-daryana kabhi janaaza uthta na kaheen mazaar hota
مر کر بھی ہم بدنام ہوئے، تو کیوں نہ دریا میں ڈوب گئے؟ اس طرح نہ جنازہ اٹھتا نہ کوئی قبر بنتی جس سے لوگ ہماری داستان یاد کرتے۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کی رسوائی مرنے کے بعد بھی ساتھ رہی۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ