موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائےآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
mauj-e-khoon sar se guzar hi kyun na jaaeaastaan-e-yaar se uth jaaen kya
خون کی لہر سر سے گزر جائے تو بھی کیا ہم محبوب کی چوکھٹ سے اٹھ جائیں؟ عاشق کسی خطرے سے بھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ یہاں وفا کا مطلب ثابت قدمی ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 44 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ