تا صاف کرے دل نہ مئے صاف سے صوفیکچھ سود و صفا علم تصوف نہیں کرتا
taa saaf kare dil na mai-e-saaf se sufikuchh sood-o-safaa ilm-e-tasawwuf nahin kartaa
جب تک صوفی صاف شراب سے اپنا دل صاف نہ کرے، علم تصوف اسے کوئی فائدہ یا پاکیزگی نہیں دیتا۔ کلاسیکی شاعری میں “مے” سے مراد سچی، دلی محبت اور معرفت ہے۔ ذوق کہتے ہیں کہ اس اندرونی تجربے کے بغیر راستے کا کتابی علم بے کار ہے۔
شیخ ابراہیم ذوق · دیوانِ ذوق (باضافۂ غزلیات مزید) (1923)، ص 22 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ