etimaad

اعتماد

بھروسا؛ بھروسا

Meaning: reliance, trust; confidence

اعتماد (etimaad) کا مطلب ہے: بھروسا، یا بھروسا۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

dost-daar-e-dushman hai etimaad-e-dil maaloomaah be-asar dekhi, naala naa-rasaa paaya

دل تو دشمن کا دوست نکلا، اس پر بھروسا کیسا۔ میری آہ بے اثر رہی اور فریاد محبوب تک نہ پہنچی۔ یعنی عشق میں اپنا دل اور اپنی آواز بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 3 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حسن اور اس پہ حسنِ ظن رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں

husn aur us pe husn-e-zan reh gai bul-hawas ki sharmapne pe etimaad hai ghair ko aazmaae kyun

حسن، اور اس پر اچھا گمان! جھوٹے عاشق کی عزت رہ گئی۔ محبوب کو اپنے حسن پر ایسا بھروسا ہے کہ رقیب کو آزماتا ہی نہیں، اس لیے اس کا جھوٹ کبھی نہیں کھلتا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 108 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ا‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت