aashna

آشنا

جان پہچان والا، دوست؛ واقف، دوست؛ دوست، واقف

Meaning: an acquaintance, friend; acquainted, close; friend, intimate

آشنا (aashna) کا مطلب ہے: جان پہچان والا، دوست، یا واقف، دوست، یا دوست، واقف۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۳ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

حیف کہتے ہیں ہوا گلزار تاراج خزاںآشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

haif kahte hain hua gulzaar taaraaj-e-khizaanaashna apna bhi vaan ik sabza-e-begaana tha

افسوس، لوگ کہتے ہیں کہ باغ خزاں کے ہاتھوں لٹ گیا۔ وہاں ہمارا بھی ایک جاننے والا تھا، ایک بیگانہ سا سبزہ جسے کوئی اپنا نہ سمجھتا تھا۔ یعنی جو چھوٹی سی چیز ہماری تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھیکبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

kabhi ham mein tum mein bhi chaah thi kabhi ham se tum se bhi raah thikabhi ham bhi tum bhi the aashnaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

کبھی ہم میں تم میں بھی محبت تھی، کبھی ہم تم میں میل جول تھا، کبھی ہم تم بھی ایک دوسرے کے آشنا تھے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ “کبھی” کی تکرار ماضی کو قریب بھی کرتی ہے اور کھویا ہوا بھی دکھاتی ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے باوفامیں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

jise aap ginte the aashnaa jise aap kehte the baa-wafaamain wahi hoon momin-e-mubtalaa tumhein yaad ho ke na yaad ho

جسے آپ اپنا آشنا سمجھتے تھے، جسے وفادار کہتے تھے، میں وہی عشق میں گرفتار مومن ہوں، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔ مقطع میں شاعر اپنا نام لے کر اپنی قائم وفا کو محبوب کی بھول کے سامنے رکھتا ہے۔

مومن خان مومن · کلیاتِ مومن (1863)، ص 144 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ا‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت