پہنچوں کس طرح آشیاں تکہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
pahunchoon kis tarah aashiyaan takhar cheez pe chha gaya andhera
بلبل پریشان ہے کہ اب میں اپنے گھونسلے تک کیسے پہنچوں، ہر چیز پر تو اندھیرا چھا گیا ہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ
اے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا
ae gulsitaan-e-undulus woh din hain yaad tujh kotha teri daaliyon mein jab aashiyaan hamaara
اے اندلس کے باغ، کیا تجھے وہ دن یاد ہیں جب تیری شاخوں میں ہمارا آشیانہ تھا؟ یعنی اسپین جہاں صدیوں تک مسلمان آباد رہے۔
علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 172 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ