aafaaq

آفاق

دنیا کے کنارے، ساری دنیا؛ دنیا، کائنات (افق کی جمع)

Meaning: the horizons, the whole world; the world (literally the horizons)

آفاق (aafaaq) کا مطلب ہے: دنیا کے کنارے، ساری دنیا، یا دنیا، کائنات (افق کی جمع)۔ یہ لفظ ہمارے ذخیرے میں ۲ اشعار میں آیا ہے۔

یہ لفظ ان اشعار میں

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیریگھر گھر لیے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

aafaaq mein phailegi kab tak na mahak terighar ghar liye phirti hai paighaam sabaa tera

تیری خوشبو کب تک دنیا میں نہ پھیلے گی؟ صبا تو تیرا پیغام لیے گھر گھر پھرتی ہے۔ اردو شاعری میں صبا قاصد ہے، اور یہاں وہ خدا کی نشانیاں ہر ایک تک پہنچا رہی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 42 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامتاسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

aafaaq ki manzil se gaya kaun salaamatasbaab luta raah mein yaan har safari ka

اس دنیا کی منزل سے کون صحیح سلامت گزرا ہے؟ یہاں ہر مسافر کا سامان راستے میں لٹ گیا۔ زندگی ایک سفر ہے جس میں ہر شخص کچھ نہ کچھ کھو دیتا ہے، جوانی، دولت یا اپنے لوگ۔

میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 6 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

’ا‘ سے مزید الفاظ

پوری لغت