کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیایکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
kal paanv ek kaasa-e-sar par jo aa gayayaksar vo ustukhvaan shikaston se choor tha
یہ شعر اور اگلا شعر مل کر ایک قطعہ بناتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ کل راستے میں میرا پاؤں ایک کھوپڑی پر پڑ گیا جو ٹوٹ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔ اگلے شعر میں وہ کھوپڑی بولتی ہے۔
میر تقی میر · کلیاتِ میر (بترتیبِ جدید، مع مقدمہ و فرہنگ) (1941)، ص 2 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ