زخم گر دب گیا لہو نہ تھماکام گر رک گیا روا نہ ہوا
zakhm gar dab gaya lahoo na thamakaam gar ruk gaya rawa na hua
زخم دب بھی گیا تو خون نہ رکا، کام رک بھی گیا تو پورا نہ ہوا۔ یعنی جو مسئلہ صرف دبا دیا جائے وہ حل نہیں ہوتا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 27 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ