بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کاخط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں
bas ho chukaa bayaan kasal-o-ranj-e-raah kaakhat kaa mere jawaab hai ae naama-bar kahaan
قاصد واپس آیا ہے اور سفر کی تھکن اور تکلیفوں کا قصہ سنائے جا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بس، راستے کی تکان کا بیان بہت ہو چکا، اے نامہ بر یہ بتاؤ کہ میرے خط کا جواب کہاں ہے؟ اس بے صبری میں ہی شعر کا لطف ہے کہ عاشق کو صرف محبوب کے ایک لفظ کی پروا ہے۔
الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ