بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
bas-ki hoon Ghalib aseeri mein bhi aatish zer-e-paamoo-e-aatish-deeda hai halqa meri zanjeer ka
غالب! میں قید میں بھی ایسا بے چین ہوں جیسے پاؤں تلے آگ ہو۔ میری زنجیر کی ہر کڑی آگ میں جلے ہوئے بال کی طرح مڑ گئی ہے۔ جلا ہوا بال کمزور ہو کر ٹوٹ جاتا ہے، یعنی ایسی بے قرار روح کو زنجیر نہیں روک سکتی۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 1 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ