بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
bojh voh sar se giraa hai ke uthaae na uthekaam voh aan paraa hai ke banaae na bane
سر سے ایسا بوجھ گرا ہے جو اٹھائے نہیں اٹھتا، اور ایسا کام آن پڑا ہے جو بنائے نہیں بنتا۔ یہ اس بے بسی کی تصویر ہے جب زندگی کا بوجھ حد سے بڑھ جائے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 180 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ