دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
dil mein zauq-e-wasl-o-yaad-e-yaar tak baaqi nahinaag is ghar mein lagi aisi ki jo tha jal gaya
دل میں نہ ملنے کی آرزو رہی نہ محبوب کی یاد۔ اس گھر میں ایسی آگ لگی کہ جو کچھ تھا سب جل گیا۔ دل کو گھر کہا گیا ہے اور عشق کی آگ نے خود عشق کی یادوں کو بھی جلا ڈالا۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 4 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ