اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
use kaun dekh sakta ki yagaana hai woh yaktajo dui ki boo bhi hoti to kaheen do-chaar hota
اس ذات کو کون دیکھ سکتا ہے، وہ یکتا اور بے مثل ہے۔ اگر اس میں دوئی کی ذرا سی بھی بو ہوتی تو کہیں نہ کہیں ہم سے آمنا سامنا ہو جاتا۔ شعر خدا کی وحدانیت کے بارے میں ہے اور اس میں ایک، دو اور چار کے لفظوں کا خوب صورت کھیل ہے۔
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ