داغ دہلوی کی غزل (منتخب اشعار: ۱)

داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہے

Daagh Waarafta Tabeeat Kaa Thikaanaa Kya Hai · Ghazal by Dagh Dehlvi

ردیف “چھوڑ دیا” والی غزل کا مقطع، جو صفحہ ۱۲ کے اوپر چھپا ہے۔ یہاں صرف یہی شعر دیا گیا ہے۔

The closing couplet (maqta) of Dagh’s ghazal on the refrain “chhor diya” (left, abandoned), printed at the top of page 12. We carry only this couplet.

یہ غزل داغ دہلوی کی ہے اور یہاں مہتابِ داغ (1893) کے صفحہ ۱۲ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This ghazal is by Dagh Dehlvi, from Mahtab-e-Dagh (Dagh’s third diwan) (1893), p. 12.

داغ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانا کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا

daagh waarafta tabeeat kaa thikaanaa kya haikhaana-barbaad ne muddat hui ghar chhor diyaa

  • وارفتہ waaraftaکھویا ہوا، دیوانہ وار (lost to oneself, entranced)
  • طبیعت tabeeatمزاج (temperament, nature)
  • خانہ برباد khaana-barbaadجس کا گھر اجڑ گیا ہو (one whose home is ruined)
  • مدت muddatلمبا عرصہ (a long time)

آسان تشریح

داغ جیسے کھوئے ہوئے مزاج والے کا کیا ٹھکانا؟ یہ خانہ برباد تو مدت ہوئی گھر چھوڑ چکا۔ یہ عاشق کا اپنا بیان بھی ہے، اور داغ کی اپنی زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو دلی سے رام پور اور پھر حیدرآباد تک سفر میں گزری۔

In plain English

What fixed address can a man as lost in love as Dagh have? This homeless one left his house long ago. The lines can be read as a lover’s self-description, and also echo Dagh’s own life of moving from Delhi to Rampur to Hyderabad.

داغ دہلوی · مہتابِ داغ (1893)، ص 12 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
مہتابِ داغ · Mahtab-e-Dagh (Dagh’s third diwan) · Matba-e-Aziz (title page: “باہتمام کارپردازان مطبعِ عزیز دکن طبع شد”)، Hyderabad (Deccan) 1893
صفحات
12 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

داغ دہلوی کا مزید کلام