وائرل شعر · دعویٰ: Mirza Ghalib

کیا یہ شعر مرزا غالب کا ہے؟

درست: یہ غالب کی غزل ’’نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی‘‘ کا ایک شعر ہے۔

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی

na sataaish ki tamannaa na sile ki parvaagar nahin hain mere ash'aar mein maani na sahi

فیصلہ: اصلی · Genuine

خلاصہ

Genuine: this is a couplet of the ghazal "na hui gar mere marne se tasalli na sahi" by Mirza Ghalib.

ثبوت

ہم نے یہ شعر دیوانِ غالب، نسخۂ برلن (1925) کے صفحہ 160 (اسکین ورق 164) پر پڑھا، جہاں یہ اس غزل کا شعر نمبر 6 ہے۔ جو الفاظ عام طور پر شیئر ہوتے ہیں وہ مطبوعہ متن سے ملتے ہیں؛ صرف املا جدید کیا گیا ہے۔ لفظی معنی کے ساتھ پورا متن نیچے دیے گئے لنک پر ہے۔

We read the couplet in Divan-e-Ghalib, Nuskha-e-Berlin (1925), printed page 160 (scan leaf 164), where it appears as couplet 6 of the ghazal. The wording people share matches the printed text; only the spelling is modernised. Our full transcription, with word meanings, is linked below.

اصل شعر، مرزا غالب، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 160:

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی

معنی، تشریح اور کارڈ

ذرائع

جانچ کی تاریخ: 2026-10-29 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں