وائرل شعر · دعویٰ: Mirza Ghalib

کیا یہ شعر مرزا غالب کا ہے؟

درست: یہ غالب کی غزل ’’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘‘ کا مطلع ہے۔

ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئی

ibn-e-maryam huaa kare koimere dukh ki davaa kare koi

فیصلہ: اصلی · Genuine

خلاصہ

Genuine: this is opening couplet (matla) of the ghazal "ibn-e-maryam huaa kare koi" by Mirza Ghalib.

ثبوت

ہم نے یہ شعر دیوانِ غالب، نسخۂ برلن (1925) کے صفحہ 201 (اسکین ورق 205) پر پڑھا، جہاں یہ اس غزل کا شعر نمبر 1 ہے۔ جو الفاظ عام طور پر شیئر ہوتے ہیں وہ مطبوعہ متن سے ملتے ہیں؛ صرف املا جدید کیا گیا ہے۔ لفظی معنی کے ساتھ پورا متن نیچے دیے گئے لنک پر ہے۔

We read the couplet in Divan-e-Ghalib, Nuskha-e-Berlin (1925), printed page 201 (scan leaf 205), where it appears as couplet 1 of the ghazal. The wording people share matches the printed text; only the spelling is modernised. Our full transcription, with word meanings, is linked below.

اصل شعر، مرزا غالب، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 201:

ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئی

معنی، تشریح اور کارڈ

ذرائع

جانچ کی تاریخ: 2026-10-29 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں