ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
hazaaron saal nargis apni be-noori pe roti haibari mushkil se hota hai chaman mein deeda-war paida
فیصلہ: اصلی · Genuine
وائرل شعر · دعویٰ: Allama Iqbal
درست: یہ اقبال کی نظم ’’طلوع اسلام‘‘ کا ایک شعر ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
hazaaron saal nargis apni be-noori pe roti haibari mushkil se hota hai chaman mein deeda-war paida
فیصلہ: اصلی · Genuine
Genuine: this is a couplet of the poem "tuloo-e-islaam" by Allama Iqbal.
ہم نے یہ شعر بانگِ درا (لاہور، 1926) کے صفحہ 306 (اسکین ورق 327) پر پڑھا، جہاں یہ اس نظم کا شعر نمبر 3 ہے۔ جو الفاظ عام طور پر شیئر ہوتے ہیں وہ مطبوعہ متن سے ملتے ہیں؛ صرف املا جدید کیا گیا ہے۔ لفظی معنی کے ساتھ پورا متن نیچے دیے گئے لنک پر ہے۔
We read the couplet in Bang-e-Dra (Lahore, 1926), printed page 306 (scan leaf 327), where it appears as couplet 3 of the poem. The wording people share matches the printed text; only the spelling is modernised. Our full transcription, with word meanings, is linked below.
اصل شعر، علامہ محمد اقبال، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 306:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
معنی، تشریح اور کارڈجانچ کی تاریخ: 2026-10-29 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں