بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
bekhudi be-sabab nahin ghaalibkuchh to hai jis ki parda-daari hai
فیصلہ: اصلی · Genuine
وائرل شعر · دعویٰ: Mirza Ghalib
درست: یہ غالب کی غزل ’’پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے‘‘ کا ایک شعر ہے۔
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
bekhudi be-sabab nahin ghaalibkuchh to hai jis ki parda-daari hai
فیصلہ: اصلی · Genuine
Genuine: this is a couplet of the ghazal "phir kuchh ik dil ko beqaraari hai" by Mirza Ghalib.
ہم نے یہ شعر دیوانِ غالب، نسخۂ برلن (1925) کے صفحہ 153 (اسکین ورق 157) پر پڑھا، جہاں یہ اس غزل کا شعر نمبر 14 ہے۔ جو الفاظ عام طور پر شیئر ہوتے ہیں وہ مطبوعہ متن سے ملتے ہیں؛ صرف املا جدید کیا گیا ہے۔ لفظی معنی کے ساتھ پورا متن نیچے دیے گئے لنک پر ہے۔
We read the couplet in Divan-e-Ghalib, Nuskha-e-Berlin (1925), printed page 153 (scan leaf 157), where it appears as couplet 14 of the ghazal. The wording people share matches the printed text; only the spelling is modernised. Our full transcription, with word meanings, is linked below.
اصل شعر، مرزا غالب، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 153:
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
معنی، تشریح اور کارڈجانچ کی تاریخ: 2026-10-29 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں