وائرل شعر · دعویٰ: Mirza Ghalib

کیا یہ شعر مرزا غالب کا ہے؟

درست: یہ غالب کی غزل ’’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘‘ کا ایک شعر ہے۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

aate hain ghaib se ye mazaameen khayaal meinghaalib sareer-e-khaama navaa-e-sarosh hai

فیصلہ: اصلی · Genuine

خلاصہ

Genuine: this is a couplet of the ghazal "zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai" by Mirza Ghalib.

ثبوت

ہم نے یہ شعر دیوانِ غالب، نسخۂ برلن (1925) کے صفحہ 159 (اسکین ورق 163) پر پڑھا، جہاں یہ اس غزل کا شعر نمبر 13 ہے۔ جو الفاظ عام طور پر شیئر ہوتے ہیں وہ مطبوعہ متن سے ملتے ہیں؛ صرف املا جدید کیا گیا ہے۔ لفظی معنی کے ساتھ پورا متن نیچے دیے گئے لنک پر ہے۔

We read the couplet in Divan-e-Ghalib, Nuskha-e-Berlin (1925), printed page 159 (scan leaf 163), where it appears as couplet 13 of the ghazal. The wording people share matches the printed text; only the spelling is modernised. Our full transcription, with word meanings, is linked below.

اصل شعر، مرزا غالب، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 159:

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

معنی، تشریح اور کارڈ

ذرائع

جانچ کی تاریخ: 2026-10-29 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں