عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ishq ne Ghalib nikamma kar diyawarna hum bhi aadmi the kaam ke
فیصلہ: اصلی · Genuine
وائرل شعر · دعویٰ: Mirza Ghalib
درست: یہ غالب کی غزل ’’غیر لیں محفل میں بوسے جام کے‘‘ کا ایک شعر ہے۔
عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ishq ne Ghalib nikamma kar diyawarna hum bhi aadmi the kaam ke
فیصلہ: اصلی · Genuine
Genuine: this is a couplet of the ghazal "ghair len mehfil mein bose jaam ke" by Mirza Ghalib.
ہم نے یہ شعر دیوانِ غالب، نسخۂ برلن (1925) کے صفحہ 171 (اسکین ورق 175) پر پڑھا، جہاں یہ اس غزل کا شعر نمبر 7 ہے۔ جو الفاظ عام طور پر شیئر ہوتے ہیں وہ مطبوعہ متن سے ملتے ہیں؛ صرف املا جدید کیا گیا ہے۔ لفظی معنی کے ساتھ پورا متن نیچے دیے گئے لنک پر ہے۔
We read the couplet in Divan-e-Ghalib, Nuskha-e-Berlin (1925), printed page 171 (scan leaf 175), where it appears as couplet 7 of the ghazal. The wording people share matches the printed text; only the spelling is modernised. Our full transcription, with word meanings, is linked below.
اصل شعر، مرزا غالب، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 171:
عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
معنی، تشریح اور کارڈجانچ کی تاریخ: 2026-10-29 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں