وائرل شعر · دعویٰ: Allama Iqbal
کیا یہ شعر Allama Iqbal کا ہے؟ اصلی
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
lab pe aati hai duaa ban ke tamannaa merizindagi shamaa ki soorat ho Khudaayaa meri
فیصلہ: اصلی · Genuine
خلاصہ
درست: یہ اقبال کی نظم ’بچے کی دعا‘ (1902) کا پہلا شعر ہے۔
Genuine: this is the opening of Iqbal's poem 'Bachche ki Dua' (A Child's Prayer), written in 1902.
ثبوت
نظم ’بچے کی دعا‘، جو اپنے پہلے مصرعے سے بھی مشہور ہے، اقبال نے 1902 میں لکھی اور بعد میں ’بانگِ درا‘ (1924) میں شامل کی۔ یہی دعا پاکستان کے اسکولوں کی اسمبلی میں پڑھی جاتی ہے۔ آن لائن اس میں کبھی کبھی اضافی اشعار جوڑ دیے جاتے ہیں؛ پوری نظم کو مطبوعہ ’بانگِ درا‘ سے ملا لیں۔
The poem 'Bachche ki Dua', also known by its first line, was written by Iqbal in 1902 and later collected in Bang-e-Dra (1924). It is the prayer recited in school assemblies across Pakistan. Extra couplets are sometimes added to it online; check the full poem against a printed Bang-e-Dra.
اصل شعر، علامہ محمد اقبال، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
معنی، تشریح اور کارڈذرائع
جانچ کی تاریخ: 2026-10-26 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں