وائرل شعر · دعویٰ: Allama Iqbal

کیا یہ شعر Allama Iqbal کا ہے؟ اصلی

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

sitaaron se aage jahaan aur bhi hainabhi ishq ke imtihaan aur bhi hain

فیصلہ: اصلی · Genuine

خلاصہ

درست: یہ ’بالِ جبریل‘ (1935) میں اقبال کی ایک غزل کا مطلع ہے۔

Genuine: this is the opening couplet of a ghazal by Iqbal in Bal-e-Jibril (1935).

ثبوت

غزل ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘ 1935 میں ’بالِ جبریل‘ میں چھپی۔ اسی غزل میں ایک اور مشہور شعر ہے: ’تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا / ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں‘۔

The ghazal 'sitaaron se aage jahaan aur bhi hain' was published in Bal-e-Jibril in 1935. The same ghazal contains another favourite, 'tu shaaheen hai, parvaaz hai kaam teraa / tere saamne aasmaan aur bhi hain'.

ذرائع

جانچ کی تاریخ: 2026-10-26 · کوئی غلطی؟ ہمیں بتائیں